Posts

بیٹا آج سیب لایا ہوں، کھا لینا :😥 یہ ابو کا جملہ ہوتا تھا

 *بیٹا آج سیب لایا ہوں، کھا لینا :😥 یہ ابو کا جملہ ہوتا تھا*  جب بھی وہ کوئی پھل لاتے اور میں بے دھیانی میں "اچھا" کہ دیتا۔ دوسرے دن ابو دوبارہ پوچھتےکہ آپ نے پھل نہیں کھایا تھا؟ اور میں کہتا کہ کھا لوں گا ایسی کونسی بات ہے کہ نہ کھایا تو کچھ کمی رہ جائے گی۔۔ پچھلے ہفتے میرے بیٹی کی طبیعت خراب تھی تو ڈاکٹر نے خصوصی طور پر پھل اور سبزیاں کھانے کو کہا جو میں فوراً سے خرید لایا، اور جب یہی الفاظ دہرائے کہ "بیٹا پھل لایا ہوں، ضرور کھا لینا" تب جیسے ماضی بھاگ کر میرے سامنے آگیا کہ جو باپ ہمیں اس لیے پھل لا کر دیتا اور کھانے کا کہتا کہ ہم بیمار ہی نہ ہوں۔۔ کیا محبت تھی وہ۔  پھر وہی باپ جب بیمار پڑتا ہے تو بچے اس کی دوائیوں سے آنکھ چراتے ہیں، اس کے کھانے پینے کو بوجھ سمجھتے ہیں، ایسے موقعے پر باپ کو اپنے لائے ہوے پھل یاد تو آ تے ہونگے پر وہ اس وقت کچھ کر نہیں سکتا۔  اللّٰہ سب کو اپنے والدین کی خدمت کا موقع دے اور جن کے والدین دنیا سے جا چکے ہیں ان کی مغفرت فرمائے ۔ آمین تحریر کو صدقہ جاریہ اور اللہ کی رضا کی نیت سے اپنے عزیز و اقارب اور مقامی گروپس میں شیئر کیجئے ہو سکتا ...

آج میری بائک سے کوئی سارا پیٹرول نکال کر لے گیا

 آج میری بائک سے کوئی سارا پیٹرول نکال کر لے گیا دلچسپ بات یہ ہوئی کہ بائک سے پیٹرول چوری کرنے والے غریب کا اپنا موبائل بائک کے پاس ہی رہ گیا، جس پر اسکی فیسبک آئی ڈی کھلی ہوئی تھی۔ اگر آپ میں سے کوئی اسے جانتا ہے تو نیچے لنک میں اسکی پروفائل ذرہ کھول کر دیکھیں اور بتائیں کہ یہ کون شخص ہے۔ ویسے شکل سے ایسا لگتا تو نہیں جیسی اس نے حرکت کی ہے۔ http://www.facebook.com/profile.php

ایک کنجوس اعرابی کو کسی نے شادی کی ترغیب دلائی اعرابی کہنے لگا

 ایک کنجوس اعرابی کو کسی نے شادی کی ترغیب دلائی  اعرابی کہنے لگا الدنيا كلمتان: هات، وخذ، والحياة كلمتان: هات وخذ، والمرأة كلمتان أيضًا، ولكنهما: هات، وهات دنیا کلموں پر مشتمل ہے *لاؤ مجھے دو اور یہ لو*   اور زندگی دو باتوں پر مشتمل ہے *لاؤ مجھے دو اور یہ لو*   جبکہ عورت بھی دو ہی کلمات پر مشتمل ہے مگر وہ ہیں *لاؤ مجھے دو اور لاؤ مجھے دو* 😅 اعرابی کنوارہ ہونے کے باوجود سیانا تھا کہ عورت صرف لاؤ مجھے دو لاؤ مجھے دو ہی کہتی ہے  *ویسے بھی مشاہدہ ہے بندہ صرف کنوارہ ہونے تک ہی سیانا رہتا ہے* 😅 لہذا اگر آپ کو کنوارہ دوست سیانی باتیں کرے تو فائدہ اٹھایا کریں 😀

*طلبہ اور پادری کا ایک ایمان افروز مکالمہ*

 *طلبہ اور پادری کا ایک ایمان افروز مکالمہ* ایک یورپی ملک میں مختلف قوموں سے تعلق رکھنے والے مسلمان طلبہ تعلیم کے لیے مقیم تھے۔ ایک دن اُن کی کلاس میں کالج کے ڈین نے آ کر اطلاع دی کہ جلد ہی ان کی ملاقات کیتھولک چرچ کے وفد سے ہوگی۔ چرچ کے پادری اپنے ساتھیوں کے ہمراہ طلبہ کی کلاس میں آئے اور جب پروفیسر کا لیکچر ختم ہوا تو پادری نے اسٹیج پر آ کر گفتگو شروع کی۔ اُس نے سائنس و علم کی بات کی، پھر کہا: میں مسلمان طلبہ سے چند سوالات پوچھنا چاہتا ہوں۔ پھر اُس نے پہلا سوال کیا: تمہارے قرآن میں ہے کہ تمہارے نبی کو ایک ہی رات میں مکہ سے بیت المقدس اور پھر ساتوں آسمانوں تک لے جایا گیا اور اسی رات واپس بھی آگئے۔ یہ کیسے ممکن ہے جبکہ تم جانتے ہو کہ زمین سے آسمان تک اور ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک فاصلہ بہت زیادہ ہے؟ ایک مسلمان طالبعلم پورے اعتماد اور ایمان سے کھڑا ہوا اور جواب دیا: اے پادری! میں آپ کے سوال کا جواب دیتا ہوں۔ ابھی لندن کے ریڈیو کا نیوز کاسٹر خبر پڑھنا شروع بھی نہیں کرتا کہ مشرق یا مغرب میں بیٹھا کوئی سننے والا اُسے ایک لمحے میں سن لیتا ہے۔ اگر ایک انسان کے بنائے گئے ریڈیو میں اتنی ...

ایک طرف موت تو دوسری طرف بھوک

 ایک طرف موت تو دوسری طرف بھوک ! اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں بھوک کا بحران غیر معمولی سطح پر پہنچ چکا ہے اور صورتحال مزید بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام کا کہنا ہے کہ غزہ میں بھوک کا بحران غیر معمولی سطح پر پہنچ چکا ہے اور ہر3 میں سے ایک شخص بغیر کچھ کھائے دن گزارتا ہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کی فلسطینی پناہ گزینوں کی امدادی ایجنسی ’ انروا‘ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ غزہ بچوں اور بھوکے افراد کا قبرستان بن چکا ہے۔  انروا کے سربراہ کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کے پاس بچنے کا کوئی راستہ نہیں ، ایک طرف موت ہے تو دوسری جانب بھوک ، ہمارے اصول اور اقدار غزہ میں دفن ہو رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بے عملی مزید انتشار لائے گی، مئی سے اب تک تقریباً 800 فلسطینی امداد کی تلاش میں شہید کیے جا چکے ہیں۔ واضح رہے کہ اسرائیل کے غزہ پر حملوں میں مزید 45 فلسطینی شہید ہوگئے تھے، مرنےوالوں میں امداد کے منتظر 11 فلسطینی بھی شامل ہیں۔

ہماری یونیورسٹیوں کا ماحول

 ہماری یونیورسٹیوں کا ماحول 😶 تحریر لازمی پڑھیے گا حقیقت پر مبنی ایک پرانی تحریر ہے اپنی راۓ سے آگاہ کیجئیے گا۔۔ یونیورسٹی میں تمام طلباء لڑکے ہوں یا لڑکیاں سب میچور ہوتے ہیں... اچھے برے اور فائدے نقصان کا فرق بخوبی جانتے ہیں.... اس لیول پر کوئی ایک دوسرے کو تنگ نہیں کرتا... یہاں جو بھی کپل یعنی کے جوڑا بنتا ہے وہ دونوں کی باہمی رضامندی سے بنتا ہے... دونوں ایک دوسرے کے ساتھ کچھ وقت گزار کر دو تین جوس کارنر پر جوس پینے اور کچھ ہوٹلوں پر کھانا کھانے کے بعد ہی ایک دوسرے کو اپنا سب کچھ سونپ دیتے ہیں. یہاں آغاز ہمیشہ دوستی کی آڑ میں ہوتا ہے کیونکہ یہاں دونوں ہی سمجھتے ہیں کہ دوستی کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن ایک حقیقت یہ ہے کہ دو مخالف جنس اچھے دوست بھی ہوں تو بھی زندگی کے کسی نا کسی موڑ پر ایک دوسرے کو کشش کرتے ہیں یہاں پر کچھ لوگ مضبوط ہوتے ہیں اور اپنے آپ پر قابو رکھتے ہوئے صاف رشتہ رکھ کر آگے چلتے ہیں مگر یہ تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے زیادہ تر جوڑے جسمانی تعلقات میں مبتلا ہو جاتے ہیں یونیورسٹی لیول پر کوئی کسی کے ساتھ زبردستی نہیں کرتا یہاں سب کچھ دونوں فریقین کی باہمی رضامند...

ایک خاتون آٹو ورکشاپ گئی اور 710 مانگا

 ایک خاتون آٹو ورکشاپ گئی اور 710 مانگا۔ سب لوگ ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے، کسی کو کچھ سمجھ نہیں آیا۔ آخرکار، ایک مکینک نے پوچھا: "یہ 710 کیا ہے؟" خاتون نے کہا: "وہ انجن کے بیچ میں لگا ایک چھوٹا سا پرزہ ہوتا ہے، وہ کھو گیا ہے۔" مکینک نے ایک سادہ کاغذ دیا اور کہا: "اس پر اس کی تصویر بنا دیجیے۔" خاتون نے ایک دائرہ بنایا اور اس پر 710 لکھ دیا۔ اب بھی کسی کو کچھ سمجھ نہیں آیا۔ مکینک اس خاتون کو ایک دوسری گاڑی کے پاس لے گیا، انجن دکھایا اور بولا: "اس میں وہ پارٹ ہو تو بتائیے۔" خاتون نے فوراً کہا: "سامنے ہی تو ہے!" مکینک نے جیسے ہی اس پارٹ کو دیکھا، غش کھا کر گر پڑا اور ابھی تک بے ہوشی کی حالت میں ہے۔ آئیے، آپ بھی اس پارٹ کا دیدار کر لیں کہ آخر یہ 710 کس بلا کا نام ہے۔ بلکل پہلا کمنٹ دیکھیں۔