*طلبہ اور پادری کا ایک ایمان افروز مکالمہ*
*طلبہ اور پادری کا ایک ایمان افروز مکالمہ*
ایک یورپی ملک میں مختلف قوموں سے تعلق رکھنے والے مسلمان طلبہ تعلیم کے لیے مقیم تھے۔ ایک دن اُن کی کلاس میں کالج کے ڈین نے آ کر اطلاع دی کہ جلد ہی ان کی ملاقات کیتھولک چرچ کے وفد سے ہوگی۔
چرچ کے پادری اپنے ساتھیوں کے ہمراہ طلبہ کی کلاس میں آئے اور جب پروفیسر کا لیکچر ختم ہوا تو پادری نے اسٹیج پر آ کر گفتگو شروع کی۔ اُس نے سائنس و علم کی بات کی، پھر کہا:
میں مسلمان طلبہ سے چند سوالات پوچھنا چاہتا ہوں۔
پھر اُس نے پہلا سوال کیا:
تمہارے قرآن میں ہے کہ تمہارے نبی کو ایک ہی رات میں مکہ سے بیت المقدس اور پھر ساتوں آسمانوں تک لے جایا گیا اور اسی رات واپس بھی آگئے۔ یہ کیسے ممکن ہے جبکہ تم جانتے ہو کہ زمین سے آسمان تک اور ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک فاصلہ بہت زیادہ ہے؟
ایک مسلمان طالبعلم پورے اعتماد اور ایمان سے کھڑا ہوا اور جواب دیا:
اے پادری! میں آپ کے سوال کا جواب دیتا ہوں۔ ابھی لندن کے ریڈیو کا نیوز کاسٹر خبر پڑھنا شروع بھی نہیں کرتا کہ مشرق یا مغرب میں بیٹھا کوئی سننے والا اُسے ایک لمحے میں سن لیتا ہے۔
اگر ایک انسان کے بنائے گئے ریڈیو میں اتنی طاقت ہے، تو خالقِ کائنات جس کی قدرت کامل ہے، اُس کے لیے یہ سفر ناممکن کیسے ہو سکتا ہے؟
پادری اور سب حاضرین یہ جواب سن کر حیران رہ گئے، اور پادری نے اعتراف کیا:
یہی بات میرے دل میں بھی تھی۔
اور پوری کلاس تالیوں سے گونج اُٹھی۔
لیکن پادری نے ایک اور سوال، جو اُس کے خیال میں مشکل تھا، کیا:
اگر بحرالکاہل میں ایک طیارہ گر جائے اور سینکڑوں لوگ ایک لمحے میں مر جائیں، اور اُسی لمحے چین میں ایک ریل کا حادثہ ہو جس میں بھی درجنوں افراد ہلاک ہو جائیں، تو فرشتۂ موت کس طرح ایک ہی لمحے میں اتنے مختلف جگہوں پر ان سب کی روحیں قبض کرتا ہے؟
طالب علم نے مسکرا کر کہا:
اس شہر میں، جہاں ہم اور آپ موجود ہیں، کتنے لاکھوں بلب ایک ہی وقت میں جل رہے ہیں؟
پادری بولا:
شاید لاکھوں، یا اس سے بھی زیادہ۔
طالبعلم نے کہا:
ان سب کو ایک لمحے میں بجھانے والا بٹن ایک انسان نے بنایا ہے، تو جس فرشتے کو اللہ نے حکم دیا ہے کہ جس کی موت کا وقت آئے، اُس کی روح قبض کر لے، اُس کے لیے یہ کام کیسے ناممکن ہو سکتا ہے؟
پھر اُس نے قرآن کی آیت تلاوت کی:
*{فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ}*
(پھر جب اُن کی موت کا وقت آ جاتا ہے، تو نہ وہ ایک گھڑی پیچھے ہٹ سکتے ہیں اور نہ آگے بڑھ سکتے ہیں۔)
*سورۃ الأعراف آیۃ نمبر:۳۴*
پوری کلاس ایک بار پھر تالیوں سے گونج اٹھی۔
پادری، جو لاجواب ہو چکا تھا، بولا:
مسیح تمہارے نبی سے زیادہ پاک ہیں۔
طالبعلم نے پوچھا:
کیوں؟
پادری نے کہا:
کیونکہ مسیح نے کبھی شادی نہیں کی، جبکہ تمہارے نبی نے کئی عورتوں سے نکاح کیا۔
طالبعلم نے سوال کیا:
کیا آپ شادی شدہ ہیں؟
پادری نے جواب دیا:
نہیں، ہم پادریوں پر شادی حرام ہے۔
طالبعلم نے کہا:
تو آپ نے تو طہارت کے لیے شادی نہیں کی، اور تمہارے عقیدے کے مطابق اللہ نے مریم سے شادی کی اور عیسیٰ کو پیدا کیا تو کیا تم اللہ سے بھی زیادہ پاک ہو؟
پادری یہ سن کر لرز گیا، اور بولا:
اے بیٹے! تم نے سچ کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اُس کے رسول ہیں۔
طلبہ خوشی سے کھڑے ہو گئے، اُس طالبعلم کو کندھوں پر اُٹھا لیا اور سب ایک ساتھ نعرہ لگانے لگے:
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔
اللّٰهم اجعل قلوبنا مملوءة بالإيمان، ووفقنا وذريّاتنا للحق
Comments
Post a Comment